اُڈپی:24/فروری (ایس او نیوز) ساحلی اضلاع کے ٹول گیٹ پر مقامی سواریوں سے فیس وصولی کے متعلق ریاستی چیف سکریٹری میٹنگ منعقد کرکے حتمی فیصلہ لینےتک کسی بھی پرائیویٹ سواری سے ٹول فیس وصول نہیں کئےجانے کا اُڈپی قومی شاہراہ جاگرتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے۔
اُدپی میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے سمیتی کے صدر پرتاپ شٹی نے کہاکہ قومی شاہراہ کے غیر سائنٹفک اور نامناسب تعمیری کام، بنیادی سہولیات کی کمی اور اُڈپی ضلع کی سواریوں کو ٹول فیس سے رعایت دینے کے لئے قومی شاہراہ جاگرتی کمیٹی کے ذریعے منصفانہ جدوجہد جاری رکھنے کی بات کہی۔ 13فروری کو اس سلسلے میں کمیٹی کی جانب سے اُڈپی ضلع بند کیا گیا تھا اس وقت جائے وقوع پہنچ کر برہما ور کے تحصیلدار نے مطالبات پر غورکرنے اور 25فروری تک ٹول فیس رعایت دینے کی بات کہتے ہوئے بنیادی سہولیات پر توجہ دینے کاتیقن دیا تھا۔ اس کے بعد اُڈپی کے رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ ریاستی چیف سکریٹری کے ساتھ میٹنگ منعقد کرکے کوئی حتمی فیصلہ لینے تک کسی طرح کی کوئی ٹول فیس وصول نہیں کرنے کے لئے نویوگ کمپنی کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے واضح ہدایات دی تھیں۔ اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک بنگلورو میں میٹنگ کے ذریعے کوئی فیصلہ نہیں لیاجاتا، تب تک ضلع کی کسی بھی سواریوں سے ٹول فیس وصول نہیں کرنے کی بات پرتاپ شٹی نے کہی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کمیٹی کے کیاکیا مطالبات ہیں تو جواباً انہوں نے کہاکہ تمام جگہوں پر سرویس روڈ کی تعمیر، اندرونی نالیوں کا منظم نظام، جہاں تہاں بس اسٹانڈس کی تشکیل ، روڈ لائٹ کا انتظام اور مقامی سواریوں KA-20رجسٹرنمبر کی سواریوں کو ٹول فیس سے رعایت دینا اہم مطالبات ہونے کی بات کہی۔ اس موقع پر انہوں نے 25فروری کے بعد کمپنی اگر دوبارہ ٹول فیس وصولی کے لئے آگے بڑھتی ہے تو ہم سخت جدوجہد کرنے کی دھمکی دی ۔ پریس کانفرنس میں کمیٹی کے سکریٹری وٹھل پجاری، آئیروڑی گرام پنچایت صدر موسس راڈرگس، سالی گرام پٹن پنچایت ممبر اچویت پجاری ، الوین اندرادے وغیرہ موجود تھے۔